For the brave souls who got this far: You are the chosen ones, the valiant knights who toil away, without rest. To you, true wanderers, saviors, kings of men (or queens of women :) ) I say this: never gonna give you up, never gonna let you down, never gonna run around and desert you. Never gonna make you cry, never gonna say goodbye. Never gonna tell a lie and hurt you.
Don't wanna be here? Send us removal request.
Text
The sadness that descends after finishing a good book or show… will another live up to it? How? When?
6 notes
·
View notes
Text
سہولتوں کا سیلاب اور روح کی موت
ایک ایسی کہانی، جو چوہوں سے شروع ہوئی… اور انسانیت تک جا پہنچی۔
اگر کسی مخلوق کو ہر سہولت دے دی جائے — وافر خوراک، محفوظ رہائش، سکون، اور کوئی خطرہ نہ ہو — تو کیا وہ ہمیشہ خوش و خرم اور ترقی یافتہ رہے گی؟
یہ سوال حیاتیات کے ایک امریکی ماہر جان کلہون نے 1970ء میں چوہوں پر ایک چونکا دینے والا تجربہ کر کے دنیا کے سامنے رکھ دیا۔
کلہون نے ایک مثالی ماحول تخلیق کیا، کھانے پینے کی کمی نہیں، رہائش وسیع، دشمن کوئی نہیں۔ وہاں صرف چار جوڑے چوہوں کو چھوڑا۔
کچھ ہی عرصے میں ان کی آبادی تیزی سے بڑھی۔ امن، آرام اور سہولتوں سے بھرپور "جنت" میں ہر چیز مکمل تھی… مگر پھر کچھ عجیب ہونے لگا۔
315 دن بعد
افزائش کی شرح کم ہونے لگی، سماجی ڈھانچہ بگڑنے لگا، چوہوں میں تشدد، گوشہ نشینی، ذہنی بیماری، بچوں کو چھوڑ دینا، اور حتیٰ کہ ایک دوسرے کو کھانا جیسے رویے پیدا ہونے لگے۔
کچھ چوہے مکمل بے مقصد زندگی گزارنے لگے — نہ لڑائیاں، نہ تعلقات، نہ افزائش نسل… صرف کھاتے، سوتے، اور وقت گزارتے۔
اور پھر
سب کچھ ہوتے ہوئے بھی یہ مثالی دنیا تباہ ہو گئی۔
کسی نے حملہ نہیں کیا، کوئی آفت نہیں آئی، کوئی کمی نہیں ہوئی — بس جینے کا مقصد ختم ہو گیا۔
آخری چوہا 2 سال بعد پیدا ہوا… اور پھر موت کے سوا کچھ نہ بچا۔
یہ تجربہ 25 مرتبہ دہرایا گیا، اور ہر بار نتیجہ وہی تھا:
سہولت زدہ معاشرہ، بغیر مقصد کے زندگی، اور پھر مکمل تباہی۔
سوچنے کی بات ہے کہ
کیا صرف سہولتیں، آسائشیں، اور تحفظ ہی انسان یا معاشرہ کی کامیابی کی ضمانت ہیں؟
یا ہمیں جینے کے لیے ایک "مقصد"، ایک "جدوجہد"، اور کچھ چیلنجز درکار ہوتے ہیں؟
اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے
اور اگر الله اپنے بندوں کے لیے رزق کشادہ کر دیتا، تو وہ ضرور زمین میں سرکشی کرنے لگتے، لیکن وہ ایک اندازے کے ساتھ (یعنی جتنا مناسب ہو) نازل فرماتا ہے، جیسا وہ چاہتا ہے۔"
[سورۃ الشورى: 27]
زندگی صرف آرام کا نام نہیں… بلکہ ذمہ داری، قربانی، اور جدوجہد کا نام ہے۔
جس معاشرے سے یہ سب ختم ہو جائے، وہ کتنا بھی آرام دہ ہو… وہ اندر سے مرنا شروع ہو جاتا ہے۔
دنیا میں مشکلات، کمی، اور جدوجہد دراصل انسان کو متوازن، مضبوط اور زندہ رکھتی ہیں۔ آسانی اگر بے قابو ہو جائے، تو وہ تباہی کا دروازہ کھول دیتی
حوالہ : فیسبک
0 notes
Text
"There's no power on Earth that can undo Pakistan."
Damn right Quaid.
Happy 78th peeps. This was such a beautiful year, i felt proud everyday :)
🇵🇰💚

18 notes
·
View notes
Text
urgggg .. i am hating to wear reading glasses .. one seconed i have to wear it .. and then i have to take them off .. then wear it again .... and the pain on nose bridge after taking it off after long time !
🤦🏻♂️ 😖
8 notes
·
View notes
Text


Today Israel killed beloved journalist Anas al-Sharif. May he be the light of Revolution.
16K notes
·
View notes
Text
A rare view of Mecca in the early 1950s
139 notes
·
View notes
Text
کاش یہ اتنا آسان ہوتا
It is with deep resignation that I announce my immediate retirement from the affairs of this age. It needs to be just me and the sea.
12 notes
·
View notes
Text

abhi zidd na kar… !
abhi zidd na kar dil e be khabar
k pas e hujoom e sitam garan!
abhi kon tujh se wafa kare?
abhi kis ko fursatain iss qadar
k samayt kar teri kirchiyaan
tere haq main dil khudh se dua kare!
10 notes
·
View notes
Text

الآن ارتحت يا أنس.. اليوم تشبع في الجنان وتأمن.. اليوم تكون بجوار ربك راضيًا مرضياً.. وإن كان لنا أن نشهد لشهدنا أنك أديت ما عليك.. وكنت مثالاً يُحتذى، وقدوة يؤتسى بها.. تقبلك الله في عليين.
235 notes
·
View notes
Text
لڑکپن میں کہیں پڑھا تھا ۔ اس وقت سمجھ نہیں آئی تھی اور ایک مسکرابٹ کے ساتھ اسے ایک کتابی بات کے کھاتے میں ڈال کر آگے بڑھ گیا ...
لیکن وقت نے سمجھا دیا کہ واقعی ' آگہی' کا 'عذاب ' انتہائی حد تک تکلیف دہ ہوتا ہے
3 notes
·
View notes
Text
2K notes
·
View notes
Text
تجھ کو دریا دلی کی قسم ساقیا
مستقل طور پہ دور چلتا رہے
رونقِ مے کدہ یونہی بڑھتی رہے
ایک گرتا رہے، اک سنبھلتا رہے
��رف شبنم ہی شانِ گلستاں نہیں
شعلہ و گُل کا بھی دور چلتا رہے
اشک بھی چشمِ پُرنم سے بہتے رہیں
اور دل سے دھواں بھی نکلتا رہے
تیرے چہرے پہ یہ زلف بکھری ہوئی
نیند کی گود میں صبح نکھری ہوئی
اور اس پر ستم ، یہ ادائیں تیری
دل ہے آخر کہاں تک سنبھلتا رہے
صبا افغانی
-----
Tujh ko darya-dili ki qasam saaqiya
Mustaqil tor pe daur chalta rahe
Ronaq-e-maikada yoonhi barhti rahe
Ek girta rahe, ek sambhalta rahe
Sirf shabnam hi shaan-e-gulistaan nahin
Shola o gul ka bhi daur chalta rahe
Ashk bhi chashm-e-purnam se behte rahein
Aur dil se dhuaan bhi nikalta rahe
Tere chehre pe yeh zulf bikhri hui
Neend ki god mein subah nikhri hui
Aur is par sitam, yeh adaaen teri
Dil hai aakhir kahaan tak sambhalta rahe
Saba Afghani
1 note
·
View note
Text
What if oxygen is poisonous and it just takes 75-100 years to kill us?
1M notes
·
View notes