Don't wanna be here? Send us removal request.
Text

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری
پروگرام نمبر 221
بعنوان : سلسلہ غزل برائے تنقید
اب دی بیسٹ اردو پوئٹری کے پروگراموں میں کوئی عنوان نہیں دیا جائے گا سب اپنی مرضی سے ایک بہترین کاوش پیش کر سکتے ہیں وہ بھی برائے تنقید شاعری و نثر دونوں پیش کر سکتے ہیں
تاریخ : 21-09-2019
وقت شام سات بجے پروگرام شروع ہو گا ہر شاعر کے پاس پانچ منٹ کا وقت ہو گا اس کے بعد دوسرا شاعر اپنی کاوش پیش کر سکتا ہے نیز جب آپ پروگرام میں اپنی کاوش ارسال کریں اپنی ایک تصویر بھی ارسال کر سکتے ہیں
ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی جانب سے220منفرد عالمی تنقید ی پروگرامز اور عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب کےنام سے 16 برقی شمارے پیش کر چکے ہیں
ادارہ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے،جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے....
ادارے کی کارگزاریوں کی کتاب اور سلسلہ غزل برائے تنقید کی کتاب مارکیٹ میں لائی جائے گی اس امید کے ساتھ کےدوستوں کو پسند آئے گی نیز کچھ سیکھنے کو موقعہ فراہم ہوگا۔
منجانب انتظامیہ ادارہ
===========================
صدارت
شفاعت فہیم بھارت
مہمانانِ خصوصی
افتخار راغب دوحہ قطر
غلام مصطفی اعوان دائم پاکستان
مہمانانِ اعزازی
قیصر عمران مگسی ملتان پاکستان
جمیل ارشد انڈیا
پروگرام آرگنائزر
توصیف ترنل ہانگ کانگ
خواجہ ثقلین ناگپور انڈیا
نظامت
مختار تلہری بھارت
رپورٹ
خواجہ ثقلین ناگپور انڈیا
بروشر
صابر جاذب لیہ پاکستان
===========================
پبلیشرز
وقاص سعید برزبن آسٹریلیا
جان محمد جموں کشمیر بھارت
ڈاکٹر سمی شاہد پاکستان
کامران ضیا بھارت
سیدہ کوثر منور لندن
محمد شفیع میر بھارت
عندلیب صدیقی آسٹریلیا
ڈاکٹر وسیم راشد بھارت
ملک محمد شہباز پاکستان
===========================
تنقید نگار
شہزاد نیر لاہور پاکستان
حسن علی امام پاکستان
قیوم راز مارولی جلگاؤں انڈیا
مبصرین
امین اڈیرائی پاکستان
انور کیفی مرادآبادبھارت
ریاض شاہد بحرین
===========================
حمد
ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا
نعت
وسیم احسن کشنگنج، بہار انڈیا
===========================
فہرست شعراء
مختار تلہری انڈیا
مصطفیٰ دلکش ممبئی انڈیا
نعمان انجم میانوالی پاکستان
خواجہ ثقلین ناگپور انڈیا
خبیب تابش انڈیا
محمد شاکر عزم مرادآباد انڈیا
ڈاکٹر الماس کبیر ممبئی انڈیا
امین اڈیرائی سندھ پاکستان
ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا
صابر جاذب لیہ پاکستان
اصغر شمیم،کولکاتا،انڈیا
فیضان فیضی، چکوال، پاکستان
0 notes
Text

ادارہ،عالمی بیسٹ اردو پوئٹری
پروگرم نمبر 220بعنوان : محفل مسالمہ
دی بیسٹ اردوپوئٹری انٹرنیشنل آرگنائزیشن کے زیر اہتمام امام عالی مقام امام حسین علیہ السلام کی ذات بابرکات پر ایک محفل مسالمہ کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے اپنا کلام آڈیو اور تصویری اور اردو اور رومن اردو میں فورم پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی جانب سے 219منفرد عالمی تنقید ی پروگرامز اور عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب کےنام سے 16 برقی شمارے پیش کر چکے ہیں
ادارہ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے،جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے....
ادارے کی کارگزاریوں کی کتاب اور سلسلہ غزل برائے تنقید کی کتاب مارکیٹ میں لائی جائے گی اس امید کے ساتھ کےدوستوں کو پسند آئے گی نیز کچھ سیکھنے کو موقعہ فراہم ہوگا۔
نوٹ:-
سارے شعرا اپنا کلام برائے مشاورت پیش کریں گے۔
تاریخ : 14-09-219
وقت شام سات بجے
منجانب انتظامیہ
==========================
صدارت
مختار تلہری بریلی یو پی بھارت
پروگرام آرگنائزر
توصیف ترنل ہانگ کانگ
نظامت
صبیحہ صدف بھوپال بھارت
رپورٹ
ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا
==========================
پبلیشرز
وقاص سعید برزبن آسٹریلیا
جان محمد جموں کشمیر بھارت
ڈاکٹر سمی شاہد پاکستان
کامران ضیا بھارت
سیدہ کوثر منور لندن
محمد شفیع میر بھارت
عندلیب صدیقی آسٹریلیا
ڈاکٹر وسیم راشد بھارت
ملک محمد شہباز پاکستان
==========================
تنقید نگار
شفاعت فہیم بھارت
افتخار راغب دوحہ قطر
غلام مصطفی اعوان دائم پاکستان
شہزاد نیر لاہور پاکستان
حسن علی امام پاکستان
قیوم راز مارولی جلگاؤں انڈیا
مبصرین
امین اڈیرائی پاکستان
انور کیفی مرادآبادبھارت
ریاض شاہد بحرین
===========================
صبیحہ صدف بھوپال بھارت
اروی سجل چکوال پاکستان
مختار تلہری بریلی یو پی بھارت
اصغر شمیم،کولکاتا،انڈیا
صابر جاذب لیہ پاکستان
خواجہ ثقلین ناگپوربھارت
وسیم احسن، کشنگنج بہار، انڈیا
عقیل احمد رضی، ممبئی، انڈیا
گل نسرین ملتان پاکستان
بی ایم خان مَعَالے اچلپوری بھارت
خالد سروحی گکھڑ سٹی گوجرانوالہ پاکستان
ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا
ڈاکٹر مینا نقوی مرادابادبھارت
0 notes
Text

تعارف
ہوں گے ہمارے خون سے تاریخ میں رقم
تبدیلوں کے باب ذرا وقت آنے دو
روٹی کے دو نوالے ہیں مشکل سے دستیاب
مہنگائ اسقدر ہے کہ مر جائے آدمی
اس کے ہوتے ہوئے دنیا تھی ہمیں قوس قزح
اب یہ عالم ہے کہ ہر رنگ بُرا لگنے لگا
اُس دیس کا باسی ہوں کی جس دیس کا ہاری
مایوس ہے شاخوں پہ ثمر ہوتے ہوئے بھی
امیروں کے جہاں پکّے مکاں ہیں
وہیں پر ڈال کر چھپّر پڑا ہوں
ترے ہی دستِ ہنر تھے جو تو نے کاٹ دیے
زمانے! کیا کبھی دیکھا بغور ہم کو بھی؟؟
سنی کو ان سنی کرنے لگے تو جینے لگے
سنائی دیتا ہے ورنہ یہ شور ہم کو بھی
جو ضد کی پوچھو تو اپنی جگہ ڈٹا ہوا ہوں
وگرنہ جاں تو زبوں ہے معاملہ یوں ہے
زندگی بھوک کے ماروں کی نہ پوچھو کاشر
غم کی سولی پہ یہ ہر روز لٹک جاتی ہے
شوزیب کاشر
=============================
اقلیمِ جاں سے آگے کدھر جائے آدمی
اک دشت بے ثمر ہے جدھر جائے آدمی
سفاک اسقدر ہے کہ شرمندہ گرگ بھی
خود اپنا حال دیکھے تو ڈر جائے آدمی
پیروں میں آبلے تو نگاہوں میں فاصلے
ان منزلوں سے کیسے گزر جائے آدمی
خود بن گیا مشین مشینوں کے ساتھ ساتھ
کاموں سے جان چھوٹے تو گھر جائے آدمی
روٹی کے دو نوالے ہیں مشکل سے دستیاب
مہنگائ اسقدر ہے کہ مر جائے آدمی
دھن،دھونس،دھاندلی کے بھنور ہیں تو کیا ہوا
بس بے ضمیر بن کے اتر جائے آدمی
ایسے میں سچ سنا کے بھلا جاں گنوائے کیوں
بہتر نہیں کہ صاف مکر جائے آدمی
اس میں حرج ہی کیا کہ نیا شہر ڈھونڈ لے
کاشر جب ایک شہر سے بھر جائے آدمی
شوزیب کاشر
====================
تعارف
نام: شوزیب صادق
ادبی تخلص: کاشر
والد کا نام: صادق حسین نثار
ملک اور شہر: راولاکوٹ آزادکشمیر
ازدواجی زندگی: شادی شدہ
اہم سنگِ میل: نوعمر صاحب کتاب شاعر ہونے پر حکومتِ پاکستان کی طرف سے گولڈ میڈل2004 میں
پاکستان و ہندوستان کے نامور نعت خوانوں اور غزل گو گلوکاروں نے نعوت اور غزلیات کو گایا
کئی ویپسائٹز نے کلام کو اپنے صفحے پر نمایاں طور پر چھاپا
ابتدائی اور اعلٰی تعلیم: میٹرک صدیق اکبر ماڈل سکول راولاکوٹ
ماسٹرز ان انگلش: آزاد کشمیر یونیورسٹی2011
بی ایڈ 2013 ایضا
ایم ایڈ 2016 ایضا
ماسٹرز ان اردو : سرگودھا یونیورسٹی 2017
پروفیشن یا بزنس: پیشہ تدریس
ادبی زندگی کا آغاز: 2002 میٹرک سے
ادبی اساتذہ یا رہنما: لیاقت شعلان، عبد السلام ثمر ، شہزاد مجدی
ادبی اصناف: نعت ، غزل
کل کتابوں کی تعدار:3 طبع شدہ میں نے پیار بیج دیا
نوائےخضر
خمیازہ
زیر طباع کتابیں1شہِ لولاک نعت مناقب
اک شجر دیمک زدہ
غیر ملکی دورے: کوئ نہیں
ادبی آیوارڈز:گولڈ میڈل اوور آل پرفارمنس ایوارڈ2004
آل پاکستان طرحی نعتیہ مقابلہ اول پوزیشن2007
آل پاکستان یونیورسٹیز مقابلہ غزل اول پوزیشن2009
ادارہ فروغِ نعت کے زیرِ اہتمام تنقیدی ردیفی مقابلوں میں متعدد بار نعت کو جید اساتذہ کی طرف سے اول پوزیشن سے نوازا
ادارہ نعت اکیڈمی کی طرف سے سال 2016 کی بہترین نعت مقابلہ میں سوم پوزیشن
ادارہ بیسٹ اردو پوئیٹری کی طرف سے متعدد ایوارڈز
احمد ندیم قاسمی ایوارڈ
سندِ اعزاز برائے ادبی خدمات
سندِ توصیف برائے ادبی خدمات
ادبی تنظیم یا ادبی تنظیموں سے وابستگی:
جنرل سیکرٹری (پونچھ ڈویژن) کشمیر ادیب فاؤندیشن (کاف)
پونچھ ادبی سوسائٹی راولاکوٹ بطور جنرل سیکرٹری
0 notes
Text

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری
پروگرام نمبر 218 بعنوان قید
بول کے لب آزاد ہیں تیرے
بول، زباں اب تک تیری ہے
فیض احمد فیض
ایک شام چار شعراء کے نام
تاریخ : 31-08-2019
وقت شام سات بجے
ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی جانب سے 217منفرد عالمی تنقید ی پروگرامز اور عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب کےنام سے 16 برقی شمارے پیش کر چکے ہیں
ادارہ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے،جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے....
ادارے کی کارگزاریوں کی کتاب اور سلسلہ غزل برائے تنقید کی کتاب مارکیٹ میں لائی جائے گی اس امید کے ساتھ کےدوستوں کو پسند آئے گی نیز کچھ سیکھنے کو موقعہ فراہم ہوگا۔
منجانب انتظامیہ ادارہ
===========================
قید
بدن نے چھوڑ دیا روح نے رہا نہ کیا
میں قید ہی میں رہا قید سے نکل کے بھی
صابر ظفر
میری فکر کی خوشبو قید ہو نہیں سکتی
یوں تو میرے ہونٹوں پر مصلحت کا تالا ہے
سلام ؔمچھلی شہری
زندگی میری مجھے قید کئے دیتی ہے
اس کو ڈر ہے میں کسی اور کا ہو سکتا ہوں
عزم شاکری
حصار ذات کے دیوار و در میں قید رہے
تمام عمر ہم اپنے ہی گھر میں قید رہے
حفیظ بنارسی
اچھا یہ کرم ہم پہ تو صیاد کرے ہے
پر نوچ کے اب قید سے آزاد کرے ہے
رفعت سروش
ہے انتظار مجھے جنگ ختم ہونے کا
لہو کی قید سے باہر کوئی بلاتا ہے
آشفتہ چنگیزی
کبھی اس روشنی کی قید سے باہر بھی نکلو تم
ہجوم حسن نے سارا سراپا گھیر رکھا ہے
فرحت احساس
بوسے بیوی کے ہنسی بچوں کی آنکھیں ماں کی
قید خانے میں گرفتار سمجھئے ہم کو
فضیل جعفری
کوئی تو آئے خزاں میں پتے اگانے والا
گلوں کی خوشبو کو قید کرنا کوئی تو سیکھے
نیلما سرور
شعر میں ساتھ روانی کے معانی بھی تو بھر
اے صداؔ قید تو کوزے میں سمندر کر دے
صدا انبالوی
خلوص ہو تو کہیں بندگی کی قید نہیں
صنم کدے میں طواف حرم بھی ممکن ہے
مضطر حیدری
وہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئے
بلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جانا
فراق گورکھپوری
مجھے تو قید محبت عزیز تھی لیکن
کسی نے مجھ کو گرفتار کر کے چھوڑ دیا
شکیل بدایونی
ہم بھی اسی کے ساتھ گئے ہوش سے سعیدؔ
لمحہ جو قید وقت سے باہر چلا گیا
سعید احمد
یہ قید ہے تو رہائی بھی اب ضروری ہے
کسی بھی سمت کوئی راستہ ملے تو سہی
عبد الحمید
قید میں اتنا زمانہ ہو گیا
اب قفس بھی آشیانہ ہو گیا
حفیظ جونپوری
قید کر لو مجھے خیالوں میں
اس جہاں سے رہائی مل جائے
نیل احمد
لفظ کی قید سے رہا ہو جا
آ مری آنکھ سے ادا ہو جا
توقیر تقی
موت آ جائے قید میں صیاد
آرزو ہو اگر رہائی کی
رند لکھنوی
قید کی مدت بڑھی چھٹنے کی جب تدبیر کی
روز بدلی جاتی ہیں کڑیاں مری زنجیر کی
رشید لکھنوی
===========================
صدارت
مشرف محضر بھارت
نظامت
صبیحہ صدف بھوپال بھارت
رپورٹ
ڈاکٹر سمی شاہد پاکستان
نفیس احمد نفیس ناندوروی بھارت
پروگرام آرگنائزر
توصیف ترنل ہانگ کانگ
گرافک ڈیزائنر
صابر جاذب لیہ پاکستان
===========================
پبلیشرز
وقاص سعید برزبن آسٹریلیا
جان محمد جموں کشمیر بھارت
ڈاکٹر سمی شاہد پاکستان
کامران ضیا بھارت
سیدہ کوثر منور لندن
محمد شفیع میر بھارت
عندلیب صدیقی آسٹریلیا
ڈاکٹر وسیم راشد بھارت
ملک محمد شہباز پاکستان
===========================
تنقید نگار
شفاعت فہیم بھارت
افتخار راغب دوحہ قطر
غلام مصطفی اعوان دائم پاکستان
شہزاد نیر لاہور پاکستان
حسن علی امام پاکستان
قیوم راز مارولی جلگاؤں انڈیا
مبصرین
امین اڈیرائی پاکستان
انور کیفی مرادآبادبھارت
ریاض شاہد بحرین
===========================
حمد و نعت
مشرف محضر بھارت
قید کیسی ہے یہ جانِ جاں
ظلم پر بھی نہ کھولوں زباں
مشرف محضر بھارت
وہ شاہ زادی رہائی کا اِزن دے دے گی ہے
بس اُس سے کہنا میں اُس سے اُداس قیدی ہوں
عاطف جاوید عاطف لاہور پاکستان
اس نے یہ قیدسے پیغام مجھے بھیجا ہے
"شوق سے بھی کوئی پنجرے میں پرندہ نہ رکھے"
خواجہ ثقلین بھارت
قیدِ حالات میں مرجانا ستم ہے خود پر
پا بجولاں ہی سہی خاک اڑا کر دیکھو
اسرار رازی بھارت
اصغر شمیم،کولکاتا ،انڈیا
صبیحہ صدف بھوپال بھارت
0 notes
Text

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری
کی پیشکش پروگرام نمبر 217
بعنوان : سرحد
Border
تاریخ : 24-08-2019
ایک شام چھ شعراء کے نام
وقت شام سات بجے
منجانب انتظامیہ
سرحد پر شاعری
سرحد کو موضوع بنانے والی یہ شاعری سرحد کے ذریعے کئے گئے ہر قسم کی تقسیم کو نکارتی ہے اور محبت کے ایک ایسے پیغام کو عام کرتی جو زمین کے تمام حصوں میں رہنے والے لوگوں کو ایک رشتے میں جوڑتا ہے ۔ تقسیم کے بعد شعرا نے سرحد اور اس سے جنم لینے والے مسائل کو کثرت سے برتا ہے ۔ یہاں ہم ایسی شاعری کا ایک انتخاب پیش کر رہے ہیں ۔
محبت کی تو کوئی حد، کوئی سرحد نہیں ہوتی
ہمارے درمیاں یہ فاصلے، کیسے نکل آئے
خالد معین
اس ملک کی سرحد کو کوئی چھو نہیں سکتا
جس ملک کی سرحد کی نگہبان ہیں آنکھیں
نامعلوم
ہمارا خون کا رشتہ ہے سرحدوں کا نہیں
ہمارے خون میں گنگا بھی چناب بھی ہے
کنول ضیائی
زمیں کو اے خدا وہ زلزلہ دے
نشاں تک سرحدوں کے جو مٹا دے
پروین کمار اشک
سرحدیں روک نہ پائیں گی کبھی رشتوں کو
خوشبوؤں پر نہ کبھی کوئی بھی پہرا نکلا
نامعلوم
جیسے دو ملکوں کو اک سرحد الگ کرتی ہوئی
وقت نے خط ایسا کھینچا میرے اس کے درمیاں
محسن زیدی
سرحدیں اچھی کہ سرحد پہ نہ رکنا اچھا
سوچئے آدمی اچھا کہ پرندہ اچھا
عرفان صدیقی
روشنی بانٹتا ہوں سرحدوں کے پار بھی میں
ہم وطن اس لیے غدار سمجھتے ہیں مجھے
شاہد ذکی
دلوں کے بیچ نہ دیوار ہے نہ سرحد ہے
دکھائی دیتے ہیں سب فاصلے نظر کے مجھے
ظفر صہبائی
شہر لاہور سے کچھ دور نہیں ہے دہلی
ایک سرحد ہے کسی وقت بھی مٹ سکتی ہے
نامعلوم
1947ءکے بعدسرحد کی غزل کی ابتداءکے بارے میں جو کوائف موجود ہیں اس کے بارے میں فارغ بخاری کی کتاب ”ادبیات سرحد “ ہماری مدد کرتی ہے۔ فارغ نے اس کتاب میں اردو غزل کی ابتدائی نقوش خوشحال خان خٹک اور رحمان بابا کی غزلوں میں دریافت کیے ہیں۔ ان دو شعراءکے ہاں کئی غزلیں ایسی ہیں جس پر اردو کے اثرات ہیں۔ اور تقریباً 1700 تک اردو کا کوئی بھی باقاعدہ غزل گو شاعر ہمیں سرحد میں نہیں ملتا۔
اٹھارویں صدی عیسوی میں ”قاسم علی خان آفریدی“ کا دیوان ملتا ہے۔ اس شاعر کا سال ولادت 1763ءاور وفات 1823ءہے۔ یہ سرحد کا ایسا شاعر ہے جس نے پشتو اور اردو میں غزلیں لکھیں۔ اس لیے اسے ہم سرحد کا پہلا باقاعدہ اردو غزل گو شاعر قرار دے سکتے ہیں۔
قاسم کے بعد سرحد میں 1920ءسے 1930ءتک بہت سے شاعر آئے جن کا تذکرہ کرتے ہوئے فارغ بخاری نے کچھ ادوار مقرر کیے ہیں۔ مگر 47 تک کوئی بھی بڑا شاعر ہمارے سامنے نہیں آیا۔ ادوار درجِ ذیل ہیں۔ پہلا دور 1700ءسے 1800ءکا ہے جس میں حید ر پشاوری، غلام قادر قدیر اور قیس پشاوری شامل ہیں۔
دوسرا دور 1800ءسے 1880ءتک ہے جس میں مدبر پشاوری، گوہر پشاوری، مرزا عباس، عبد العزیز خان عزیز شامل ہیں
تیسرا دور 1881ءسے 1920تک کا ہے جس میں سائیں احمد علی، آسی سرحدی، بیدل پشاوری، حاجی سرحدی شامل ہیں۔
چوتھا دور 1920ءسے 1935ءتک کا ہے۔ جس میں میر ولی اللہ ایبٹ آبادی، رفت بخاری، قمر سرحدی، عنایت بخاری وغیرہ شامل ہیں۔
1935ءکے بعد جو دور آتا ہے فارغ بخاری نے اس دور کو جدید دور کا نام دیا ہے جن شعراءنے اپنا معیار متعین کیا ہے وہ 1947ءکے بعد آئے ہیں۔ آئیے 1947ءکے بعد کی غزل کا جائزہ ادوار کی صورت میں لیتے ہیں
===========================
پروگرام آرگنائزر
توصیف ترنل ہانگ کانگ
گرافک ڈیزائنر
صابر جاذب لیہ پاکستان
===========================
صدارت
خواجہ ثقلین بھارت
نظامت
صبیحہ صدف بھوپال بھارت
رپورٹ
نفیس احمد نفیس ناندوروی بھارت
===========================
پبلیشرز
وقاص سعید برزبن آسٹریلیا
جان محمد جموں کشمیر ��ھارت
سمی شاہد پاکستان
کامران ضیا بھارت
سیدہ کوثر منور لندن
محمد شفیع میر بھارت
عندلیب صدیقی آسٹریلیا
ڈاکٹر وسیم راشد بھارت
ملک محمد شہباز پاکستان
===========================
تنقید نگار
شفاعت فہیم بھارت
افتخار راغب دوحہ قطر
غلام مصطفی اعوان دائم پاکستان
شہزاد نیر لاہور پاکستان
حسن علی امام پاکستان
قیوم راز مارولی جلگاؤں انڈیا
مبصرین
امین اڈیرائی پاکستان
انور کیفی مرادآبادبھارت
ریاض شاہد بحرین
===========================
لکیر کھینچنے والے سمجھ نہیں سکتے
میری پسند تو سرحد کے پار ہے صاحب
ایڈوکیٹ متین طالب بھارت
دیکھنا چاہو تو جاکر دیکھ لو
اشک میں ڈوبی ہوئی ہیں سرحدیں
انیس کیفی بھارت
کہنے کو یوں تو لفظ اک آسان ہے سرحد
اپنے لئے تو خوابِ پریشان ہے سرحد
خواجہ ثقلین بھارت
اب سوال یہ ہے کہ
سب ہے ایک جیسا تو
پھر یہ سرحدیں کیوں
پھر یہ سر حدیں کیوں ہیں
صبیحہ صدف بھوپال بھارت
نظر کو ہے نہ ویزہ کی ضرورت
میں جب چاہوں میں سرحد پار دیکھوں
اصغر شمیم،کولکاتا،انڈیا
ڈاکٹر مینا نقوی مرادابادبھارت
0 notes
Text

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری
کی پیشکش پروگرام نمبر 216
بعنوان غمِ دوراں
ردیف ہائے ہائے
درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے
مرزا غالب
ادارہ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے،جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے....
تاریخ : 17-08-2019
وقت شام سات بجے
منجانب انتظامیہ
مرثیہ
جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
لاکھوں میں ایک بیکس و دلگیر ہائے ہائے
فرزندِ فاطمہ کی یہ توقیر ہائے ہائے
میر انیس
مرثیہ
جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
چلائے شاہ لاش کدھر ہے کوئی بتائے
فرق آگیا ہماری بصارت میں ہائے ہائے
میر انیس
مثنوی
در ہجو شخصے ہیچمداں کہ دعواے ہمہ دانی داشت
اور اس میں ایک نکتہ بھی کرتا ہوں میں بیاں
پھر بولا ہائے ہائے نہیں کوئی قدرداں
میر تقی میر
مرثیہ
حسینؑ اور انقلاب
زنجیر اور عابد بیمار ہائے ہائے
زینبؑ کا سر کھلے سربازار ہائے ہائے
جوشؔ ملیح آبادی
مرثیہ
نیرنگیٔ ریاض جہاں یادگار ہے
ایسا مریض بستۂ زنجیر ہائے ہائے
یکتا امروہوی
افسانہ
ایکٹریس کی آنکھ
جتنے منہ اتنی باتیں۔۔۔۔۔۔ کھڑکی میں سے نکلی ہُوئی ہر گردن بڑے اضطراب کے ساتھ متحرک ہُوئی اور ہر ایک کے منہ سے گھبراہٹ میں ہمدردی اور استفسار کے ملے جلے جذبات کا اظہار ہوا۔
’’ہائے، ہائے، ہائے ۔۔۔۔۔۔ اُوئی ۔۔۔۔۔۔ اُوئی!‘‘
سعادت حسن منٹو
افسانہ
ایمل کا المیہ
ہائے ۔۔۔ ہائے۔۔۔ کون آواز اٹھائے گا ؟۔ کوئی آواز نہیں اٹھاتا ‘‘۔۔۔
ایمل داہنی گلی مڑ گیا ۔۔ سسکیوں کی آواز ساکت ہوگئی ۔۔۔
ثروت نجیب
افسانہ
دو ٹکے کی
جب کبھی چھوٹی صاحبزادی اس کو اخبار پڑھ کر سناتیں اور دنیا میں ہونے والے انقلابات کا ذکر آتا تو وہ سہمی ہوئی سی دل میں صاف مکر جاتی۔
’’ہائے ہائے حکومت نے تو جاگیر داری ختم کرنے کی بات چلائی ہے۔ ایک دن انہوں نے اخبار سنایا۔
نجمہ نکہت
مثنوی
زہر عشق
نہیں دیتا سنائی کچھ بالکل
ہے فقط ایک ہائے ہائے کا غل
مرزا شوقؔ لکھنوی
افسانچے/مائکرو فکشن
’’میئر صاحب ہائے ہائے‘‘
’’نگر نگم مردہ باد ‘‘
رضیہ کاظمی
افسانہ
مصری کی ڈلی
راشدہ کا چہرہ سرخ ہوگیا ۔ وہ اٹھی اور بستر پر اوندھی ہو گئی اور جب اس کی دبی دبی سسکیاں کمرے میں گونجنے لگیں تو عثمان گھبرا گیا۔ یہ پہلا اتفاق تھا جب اس نے راشدہ کے لیے ایسا لہجہ استعمال کیا تھا ۔ راشدہ سسک سسک کر رو رہی تھی اور عثمان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔؟ ایک بار اس نے راشدہ کو چھونے کی کوشش کی تو اس نے پنجے نکالے ۔ عثمان نے ہا تھ کھینچ لیا۔
’’میں خراب ہوں ۔میں آنکھیں لڑاتی ہوں ۔ میں کھڑکی سے لگی رہتی ہوں۔. ہائے ۔. ہائے۔راشدہ زور زور سے رونے لگی۔
شموئل احمد
===========================
پروگرام آرگنائزر
توصیف ترنل ہانگ کانگ
===========================
پبلیشرز
وقاص سعید برزبن آسٹریلیا
جان محمد جموں کشمیر بھارت
سمی شاہد پاکستان
کامران ضیا بھارت
سیدہ کوثر منور لندن
محمد شفیع میر بھارت
عندلیب صدیقی آسٹریلیا
ڈاکٹر وسیم راشد بھارت
ملک محمد شہباز پاکستان
===========================
تنقید نگار
شفاعت فہیم بھارت
افتخار راغب دوحہ قطر
غلام مصطفی اعوان دائم پاکستان
شہزاد نیر لاہور پاکستان
حسن علی امام پاکستان
قیوم راز مارولی جلگاؤں انڈیا
مبصرین
امین اڈیرائی پاکستان
انور کیفی مرادآبادبھارت
ریاض شاہد بحرین
===========================
ایک شام چار شعرا کےنام
تنقیدی پروگرام
1-اشرف علی اشرف سندھ پاکستان
2-خواجہ ثقلین
3-صبیحہ صدف بھوپال بھارت
4-انیس کیفی بھارت
0 notes
Text

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری
کی پیشکش پروگرام نمبر 215
بعنوان : غمِ دوراں
مسئلہ کشمیر
کرپشن، لوٹ مار اور ٹیکس چوری
وغیرہ وغیرہ
ادارہ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے،جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے....
شوہروں سے بیبیاں لڑتی ہیں چھاپہ مار جنگ
رابطہ ان کا بھی کیا کشمیر کی وادی سے ہے
ظفر کمالی
کشمیر کی وادی میں بے پردہ جو نکلے ہو
کیا آگ لگاؤ گے برفیلی چٹانوں میں
ساغرؔ اعظمی
پنجاب کو دیکھو تو اک آگ کا دریا ہے
کشمیر میں جنت کی تصویر نہیں ملتی
انجنا سندھیر
دو تین دم سرد بھرے ہیں تو وہ بولے
جاؤ مری مجلس کو نہ کشمیر بناؤ
مصحفی غلام ہمدانی
اسی مضمون سے معلوم اس کی سرد مہری ہے
مجھے نامہ جو اس نے کاغذ کشمیر پر لکھا
شاہ نصیر
مضمون سرد مہریٔ جاناں رقم کروں
گر ہاتھ آئے کاغذ کشمیر کا ورق
نظیر اکبرآبادی
کلیجہ کانپتا ہے دیکھ کر اس سرد مہری کو
تمہارے گھر میں کیا آئے کہ ہم کشمیر میں آئے
وزیر علی صبا لکھنؤی
تاریخ : 10-08-2019
وقت شام سات بجے
منجانب انتظامیہ ادارہ
===========================
پروگرام آرگنائزر
توصیف ترنل ہانگ کانگ
گرافک ڈیزائنر
صابر جاذب لیہ پاکستان
===========================
پبلیشرز
وقاص سعید برزبن آسٹریلیا
جان محمد جموں کشمیر بھارت
سمی شاہد پاکستان
کامران ضیا بھارت
سیدہ کوثر منور لندن
محمد شفیع میر بھارت
عندلیب صدیقی آسٹریلیا
ڈاکٹر وسیم راشد بھارت
ملک محمد شہباز پاکستان
===========================
تنقید نگار
شفاعت فہیم بھارت
افتخار راغب دوحہ قطر
غلام مصطفی اعوان دائم پاکستان
شہزاد نیر لاہور پاکستان
حسن علی امام پاکستان
قیوم راز مارولی جلگاؤں انڈیا
مبصرین
امین اڈیرائی پاکستان
انور کیفی مرادآبادبھارت
ریاض شاہد بحرین
===========================
صورت ہی بدل ڈالی تم نے
کشمیر کی پیاری جھیلوں کی
مشرف محضر بھارت
ظلم ڈھاتے جا رہے ہو دن بہ دن
دل مرا کیا وادیء کشمیر ہے؟
امین اوڈیرائی سندھ پاکستان
ظلم ڈھائے گا کب تک جہاں چپ رہو
رنگ لائے گی یہ داستاں چپ رہو
اصغر شمیم
صبیحہ صدف بھوپال بھارت
0 notes
Text

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری
کی پیشکش
عالمی تنقید ی پروگرام نمبر 214
بعنوان : سوچ
सोचسوچ
think, meditate
تاریخ : 03-08-2019
وقت شام سات بجے
زیادہ سے زیادہ لوگ آرٹ کے ساتھ تخلیقی شراکت دار ہیں جیسے ایک ناول لکھتے ہیں، ایک تصویر پینٹنگ یا موسیقی کی تشکیل. حالانکہ یہ سب تخلیقی کوششیں ہیں، نہ ہی تمام تخلیقی خیالات فنکار ہیں. بہت سے ملازمت تخلیقی سوچ کی ضرورت ہوتی ہے، بشمول کاروباری اور سائنس کی دنیا میں. تخلیقیت کا مطلب یہ ہے کہ کچھ نیا کے ساتھ آنے کے قابل ہو. اگر آپ کسی چیز کو تشکیل دے سکتے ہیں، نہ صرف آپ اپنی ذاتی زندگی کو بہتر بنائے جائیں گے، آپ کو بھی جو کچھ بھی درج ہے وہ آپ میں فائدہ اٹھانا پڑے گا.
آپ کو کرنے کی پہلی چیز آپ کی اپنی تخلیقی صلاحیت کو تسلیم کرتی ہے.
منجانب انتظامیہ
============================
آرگنائز
توصیف ترنل ہانگ کانگ
صدارت
مائل پالدھوی بھارت
رپورٹ
غلام مصطفیٰ دائم اعوان پاکستان
============================
حمد
ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا
07:00
نعت
غزالہ انجم بورے والا پاکستان
07:05
فہرست
تم کو اورں کے بھی دکھ درد سنائی دیں گے
بس ذرا سوچ کا معیار بدل کر دیکھو!
مائل پالدھوی بھارت
08:05
یہی کُچھ سوچ کر دائم ہوا میں دار پر فائِز
نہیں طوقِ قَضَا، بلکہ خَمِ گیسوئے جاناں ہے
غلام مصطفیٰ دائم اعوان پاکستان
7:10
اپنے اس وسوسے سے باہر آ
سوچ کے دائرے سے باہر آ
اصغر شمیم بھارت
7:15
ان کی ہماری سوچ کے دھارے نہیں ملتے
جیسے ندی کے دونوں کنارے نہیں ملتے
عقیل احمد رضی
7:20
اُجالوں کی تمنا تھی، خدا نے
مرے ہاتھوں پہ سورج رکھ دیا ہے
امین اوڈیرائی پاکستان
7:25
سوچ ہى سوچ کا معیار بدل دیتى ہے
یہ جو زاویئہِ گفتار بدل دیتى ہے
صبیحه صدف بھوپال بھارت
7:30
زیادہ سوچنا کھو دے نہ ہم کو
اسی اک بات کو سوچا بہت ہے
تھذیب ابرار، بجنور، انڈیا
07:35
یہ کارزارِ محبت ہے سوچ کر آنا
یہ کربلا ہے فقط قتلِ عام کرنے کو
ڈاکٹر مینا نقوی مرادابادبھارت
07:40
اسلیئے ہر بات پر بس مسکرادیتے ہیں زیست
تجھکو سوچینگے تو آنکھوں کى نمى بڑھ جائیگى
گوہر سیما بھارت
07:45
میں اکثر سوچتا ہوں
کہ میں کیوں سوچتا ہوں
وقارپاکستان
07:50
میں خود سے بچھڑ جاؤں اگر سوچ ذرا سوچ
اور ہاتھ نہ پھر آؤں اگر سوچ ذرا سوچ
علی شیداّ کاشمر
07:55
تجھ کو سوچوں تو تو خوابوں میں بسیرا کر لے،
اس قدر گہری محبت سے تجھے سوچتا ہوں
اطہر حفیظ فرازفیصل آباد
08:00
0 notes
Text

रिपोर्ट डॉ सिराज गुलावठवी भारत
27 जौलाई 2019 शनिवार शाम 7-30 बजे वाटस एप पर" इदारा आलमी बैसट उर्दू पोइटरी "ने एक शानदार हफ़्ता वारी प्रोग्राम "रदीफ़ी मुशायरा व याद ए ज़िया शादानी मरहूम" के उनवान से आयोजित किया , रदीफ़ी मुशायरे के लिए "अलिफ़" रदीफ़ दी गई थी। इस प्रोग्राम के आर्गनाइजर मुहतरम तोसीफ तरनल साहब हांगकांग बानी व चेयरमैन इदारा और मुहतरम असलम बनारसी साहब भारत नायब चेयरमैन इदारा थे। प्रोग्राम में ग्राफि���्स का काम जनाब साबिर जाज़िब साहब लेह पाकिस्तान ने किया, जब कि पब्लिशिंग के फ़राइज़ जनाब वक़ास सईद साहब बरज़बन आस्ट्रेलिया, जनाब जान मुहम्मद साहब जम्मू-कश्मीर भारत, मुहतरमा सिमी शाहिद साहिबा पाकिस्तान, जनाब कामरान ज़िया साहब भारत, जनाब मुहम्मद शफ़ि मीर साहब भारत, मुहतरमा सय्यदा कौसर मुनव्वर साहिबा लन्दन, जनाब अनदलीब सिद्दीकी साहब आस्ट्रेलिया, डॉ वसीम राशिद साहब भारत, जनाब मलिक मुहम्मद शहबाज़ साहब पाकिस्तान थे।
इदारा बैसट उर्दू पोइटरी का यह तुर्रा ए इम्तियाज रहा है कि इसका हर प्रोग्राम मुंफ़रिद व तंक़ीदी होता है इसलिए हर शाइर व अदीब के कलाम पर विशेषज्ञों द्वारा तंक़ीदी बात की जाती है। इस प्रोग्राम में भी तंक़ीदी बात की गई जिस के लिए इदारे की तरफ़ से जिन लोगों को चुना गया उनके नामे नामी इस तरह हैं मुहतरम शिफ़ाअत फ़हीम साहिब भारत, मुहतरम इफ्ति़खार राग़िब साहब दोहा क़तर, मुहतरम ग़ुलाम मुस्तफा दाइम साहब पाकिस्तान, मुहतरम शहजाद नय्यर साहब लाहौर पाकिस्तान, मुहतरम हसन अली इमाम साहब पाकिस्तान, मुहतरम क़ययूम राज़ साहब भारत, जबकि प्रोग्राम में मुबस्सिर के फ़राइज़ मुहतरम अमीन एडराई साहब पाकिस्तान, मुहतरम अनवर कैफ़ी साहब मुरादाबाद भारत, व मुहतरम रियाज़ शाहिद साहब बहरीन, अंजाम दे रहे थे।
प्रोग्राम की अध्यक्षता मुहतरमा मीना नक़वी साहिबा मुरादाबाद भारत ने की जबकि विशेष अतिथि मुहतरमा सबीहा सदफ़ साहिबा भोपाल भारत से थीं जो , प्रोग्राम का संचालन भी कर रही थीं। प्रोग्राम की रिपोर्ट उर्दू में जनाब नफ़ीस अहमद नफ़ीस नांदौरवी भारत ने तय्यार की जबकि हिंदी में ख़ाकसार डॉ सिराज गुलावठवी भारत ने तय्यार की।
प्रोग्राम के पहले भाग में जनाब ज़िया शादानी साहब मरहूम का नाज़िम मुशायरा ने मुखतसिर तआरुफ़ कराते हुए बताया कि वह एक अच्छे इंसान, नाक़िदे फ़न , नाज़िम ए मुशायरा, मुख़लिस व उम्दा शख्सियत के मालिक, बेहतरीन शायर थे उनका ख़ुलूस व मुहबबत हमेशा दिलों में क़ाइम रहेगी। मुहतरमा ने उनके लिये दरूद शरीफ़ के बाद सूरे फ़ातिहा, व सूरे बकर का पहला रुकूअ व ढेर सारी दुआएं पढ कर बख़श कर ख़िराज अक़ीदत पेश किया व उनके लिए दुआ ए मग़फि़रत की गयी और फिर उनकी चन्द ग़ज़लें पेश की गईं।
जहां दर गुज़र है मिज़ाज में वहां दुश्मनी की तलाश कर
जहां दोस्ती का गुज़र नहीं वहां दोस्ती की तलाश कर
या तुम कुछ पल रुक जाओ या वक्त ठहर जाये
तोहमत व हिरमत तय करनी है किस के सर जाये
संभल जायेगा दिल इमकान है ना
नहीं मानेगा ये नादान है ना
-------------------------
फिर प्रोग्राम का दूसरा भाग यानी "रदीफ़ी तरही मुशायरा" की शुरुआत की गई जिस के लिए मुहतरम नफ़ीस अहमद नफीस नांदौरवी साहब को बारी ताअला की हमद पेश करने के लिए दवते सुख़न दी गई।
(हमद बारी तआला)
आला मक़ाम तेरा अफ़ज़ल कलाम तेरा
मदहत सरा दो आलम वो पाक नाम तेरा
----------------------------------
उसके बाद नात पाक पेश करने के लिए जनाब रज़ा उल हसन साहब अमरोहा भारत को आवाज़ दी गई।
(नात ए रसूल )
जब हश्र में हो अपने कामों की जज़ा लेना
सरकार मुझे अपने दामन में छुपा लेना
-------------------------------
फिर बाक़ायदा रदीफ़ी तरही मुशायरा शुरू किया गया। याद रहे कि मुशायरे में रदीफ़ "अलिफ़ " दी गई थी जिस पर सभी शोरा ने अपना अपना कलाम पेश किया क़ारी की दिलचस्पी के लिए सभी का नमूना ए कलाम हाजिर है।
----------------------
अहसास और जज़्बों का जादू कहां गया
मेरे नदीम... मुझको बता तू कहां गया
अयक्ष मुशायरा
मुहतरमा मीना नक़वी साहिबा भारत
-------------------------------
ज़िन्दगानी के सफ़र में हर सफ़र अच्छा लगा
राह थी दुश्वार फिर भी ये सफ़र अच्छा लगा
विशिष्ट अतिथि
मुहतरमा सबीहा सदफ़ साहिबा भोपाल भारत
-----------------------------
ख़ुशबू पै अख़तयार जो था प्यार ही तो था
सांसों पै ऐतबार जो था प्यार ही तो था
जनाब अली शैदा साहब जम्मू-कश्मीर भारत
--------------------------------
तुम्हारी सोच को फ़ुरक़त में जब लिहाफ़ किया
मिले फ़िराक़ ने यादों को कूहे काफ़ किया
जनाब ख़वाजा सक़लैन साहब
---------------------------------
मैं जिस के वास्ते सब से लड़ा था
वही हिज़बे मुख़लिफ़ में खड़ा था
डा सिराज गुलावठवी भारत
------------------------
हमें कार ज़ारे हयात में न है आख़िरत का ख़याल कुछ
यूं कदूरतों में पड़े हैं हम कि दिलों से नूरे सफ़ा गया
एडवोकेट मतीन तालिब साहब भारत
------------------------------
मेरी निगाह ए शोक़ में किस का ज़हूर था
कि सिलसिला तजललियों का मिसले तूर था
जनाब अक़ील अहमद रज़ी साहब भारत
-------------------------------
किस से गिला करें वो किनारा नहीं मिला
तिनके के डूबते को किनारा नहीं मिला
जनाब जाफ़र बुढ़ानवी साहब भारत
--------------------------------
मुहबबतों का यही मसअला नहीं जाता
हम उस से कैसे कहें क्या कहा नहीं जाता
जनाब तहज़ीब अबरार साहब भारत
---------------------------------
सौ सौ तरह से सर को उठाने के बावजूद
वो शख्स़ मेरे क़द के बराबर न हो सका
जनाब अहमद काशिफ़ साहब भारत
---------------------------
सर मिरा दार तक नहीं पहुंचा
हाथ दसतार तक नहीं पहुँचा
जनाब अकसग़र शमीम साहब भारत
-------------------------------
रात भर दिल का दिया मद्धम रहा
तुम नहीं थे तो अजब आलम रहा
मुहतरमा नफ़ीसा हया साहिबा भारत
--------------------------------
कयूॅ वक़त की दुरवेशी से लेलें न दुआएं
गर्दिश से मुहब्बत का सितारा नहीं जाता
मुहतरमा दिलशाद नसीम साहिबा पाकिस्तान
-------------------------------
माज़ी हो या हो हाल हर इक है सुराब सा
मुझको ही मेरा हाफ़िज़ा अब है अज़ाब सा
जवाब बुलन्द इक़बाल नयाज़ी साहब भारत
------------------------------
ज़िन्दगी का हर दिया देगी बुझा तुम देखना
एक दिन ज़हहाब बस्ती की हवा तुम देखना
मुहतरमा साबिरा शाहीन साहिबा पाकिस्तान
-----------------------------
ज़िन्दगी जीना सिखादे ऐ ख़ुदा
दर्द इस दिल के मिटादे ऐ ख़ुदा
मुहतरमा सीमा गौहर साहिबा भारत
--------------------------------
दशत ओ सहरा सा है चमन मेरा
मुज़तरिब कयूॅ न हो ये मन मेरा
मुहतरमा नसीम ख़ानम सबा साहबा पाकिस्तान
---------------------------------
जाओ प्रदेस तो कुछ रख़ते सफ़र लेजाना
मां की आंखों से जो बरसें वो गुहर लेजाना
मुशर्रफ हुसैन महज़र भारत
----------------------------------
मुशायरा रात 9-30 बजे तक कामयाबी के साथ चला शानदार निज़ामत व शोरा को भरपूर दाद व तहसीन के साथ मुशायरे का समापन हुआ। आखिर में अध्यक्ष साहिब मुहतरमा डॉ मीना नक़वी साहिबा ने संबोधिन किया और मुशायरे के ख़त्म का ऐलान किया।
मुहतरम तोसीफ तरनल साहब हांगकांग व मुहतरम असलम बनारसी साहब भारत ने सभी शाइर व श्रोता का शुक्रिया अदा किया और शानदार व कामयाब आयोजित के लिए मुबारकबाद पेश की।
0 notes
Text

*رپورٹ...نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی (انڈیا)*
اردو کی محبّت میں نفیسؔ عمر لُٹاکر
دنیائے ادب کو بھی ضیاء بار کر گیا...
ادارہ، "عالمی بیسٹ اردو پوئٹری" دورِ حاضر میں دنیا کا واحد ادارہ ہے جو اِس برقی ترقی یافتہ دَور میں شعراء, ادباء و مُصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسّانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے... ادارۂ ھٰذا میں تمام تر پروگرامز برائے تنقید کئے جاتے ہیں... عالمی سطح پر کامیابی کے ساتھ ادبی تنقیدی پروگرامز کا انعقاد یقیناً ادارۂ ھٰذا کی انفرادیت, مقبولیت مع کامیابی کا وثیقہ ہے...
—————————————————————
احبابِ ذی وقار...،
اِس بار بروز ہفتہ، 27/07/2019 شام سات بجے، ادارۂ ھٰذا کے بانی و چیئرمن محترم توصیف ترنل صاحب کی زیرِ سرپرستی، بھارت سے تعلق رکھنے والے بزرگ شاعر مرحوم ضیاء شادانی صاحب کی یاد میں، 213واں آنلائن پروگرام بنام "تعزیتی اجلاس مع ردیفی مشاعرہ" منعقد کِیا گیا... مرحوم ۲۰/جولائی ۲۰۱۹ کی شب اس دارِ فانی سے رحلت فرما گئے... إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعونَ...
مشوراتی کمیٹی کی متّفقہ رائے سے اِس مجلسِ کی مسندِ صدارت محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ (بھارت) کے نام کی گئی تو مہمانانِ خصوصی میں محترمہ صبیحہ صدف صاحبہ شامل رہیں...
پروگرام آرگنائزر، محترم توصیف ترنل اور محترم اسلم بنارسی رہیں... بطور گرافک ڈیزائنر پاکستان کے مشہور و معروف شاعر محترم صابر جاذب لیّہ اور بطور پبلیشرز محترم وقاص سعید برزبن آسٹریلیا، جان محمد جموں کشمیر بھارت، سمی شاہد پاکستان، کامران ضیا بھارت، سیدہ کوثر منور لندن، محمد شفیع میر بھارت، عندلیب صدیقی آسٹریلیا، ڈاکٹر وسیم راشد بھارت، ملک محمد شہباز پاکستان نے اپنی خدمات انجام دیں... جہاں بطورِ ناظم، بھارت سے تعلق رکھنے والی منفرد لب و لہجہ کی خوبصورت شاعرہ محترمہ صبیحہ صدف صاحبہ نے اپنی مسحور کن نظامت سے محفل کی فضاؤں کو سحرانگیز بنا دِیا تو وہی مجلس کی روداد تحریر کرنے کی اہم ترین ذمّہ داری خاکسار راقم الحروف نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی نے نبھائی...
قارئین کرام...، پروگرام کو دو حصّوں میں تقسیم کِیا گیا تھا... پہلے حصّے میں شعرائے عالم نے اپنی اپنی ذہنی، علمی و ادبی استعداد کے مطابق مرحوم کو ایصالِ ثواب کرتے ہوئے عقیدت و محبّت کے گُل بوٹے نچھاور کئے ساتھ ہی مرحوم کے حق میں دعائے مغفرت فرمائیں جس پر حاضرین نے آمین، ثمّ آمین کی صدائیں بلند کیں... تو دوسرے حصّے میں ردیف "الف" پر شعرائے عالم نے اپنے علم و فن کے جلوے بکھیریں...
اللّہ کریم سے دعا ہے کہ...، نبئ پاکﷺ کے صدقہ و طفیل مرحوم کے حق میں کی گئیں تمام تر جائز دعاؤں کو شرفِ قبولیت بخشے، مرحوم کی مغفرت فرمائے نیز جنّت الفردوس میں بہتر سے بہتر مقام عطا فرمائے...آمین...ثمّ آمین
—————————————————————
احبابِ ذی وقار...،
اِس تعزیتی مجلس کے دوسرے حصّے یعنی ردیف "الف" پر منعقد کردہ "ردیفی تنقیدی مشاعرے" کا آغاز ربِّ ذوالجلال کی پاک و شفّاف حمد و ثنا کے ساتھ، مذکورہ ردیف کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے خاکسار راقم الحروف نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی (انڈیا) نے یوں کِیا کہ....
اعلٰی مَقام تیرا ، اَفضل کلام تیرا
مِدحَت سَرا دو عالم وہ پاک نام تیرا
مَولا! نَبی کے صَدقے آدَم کو تُو نے بَخشا
اُمّت بھی بَخش دینا، یا رَب ہے کام تیرا
*نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی (انڈیا)*
معمول کے مطابق حمد باری تعالٰی کے بعد...، بارگاہِ رسالتﷺ میں نعتِ پاک کا نذرانۂ عقیدت محترم رضاالحسن رضا امروہوی (بھارت) نے یوں پیش کیا...کہ
پہچان رضا یہ ہے شیداۓ محّمد کی
ہر حکم ِ محّمد پر سر اپنا جھکا لینا
*محترم رضاالحسن رضا امروہوی (بھارت)*
*بعد ازاں...، ردیف "الف" پر دیگر شعراء کرام نے بھی باری باری اپنا کلام پیش کِیا...*
*صدرِ محفل...*
'مینا' غموں کی مار سے پتھر بنا دیا
مت پوچھ مجھ سے آنکھ کا آنسو کہاں گیا
*محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ (بھارت)*
*مہمانانِ خصوصی...*
بے سکوں ان محل و دولت گاڑیوں کے سامنے
ہم کو تو اپنا "صدف"چھوٹا سا گھر اچھا لگا
*محترمہ صبیحہ صدف صاحبہ (بھارت)*
—————————————————————
*دیگر شعراء کرام کا نمونۂ کلام...،*
اس ہاو ہو میں نام رہا جس کا وردِ لب
شیداّ فراقِ یار جو تھا پیار ہی تو تھا
علی شیدا صاحب کاشمیر بھارت
لاؤں کہاں سے ذوقِ نظر کامیاب سا
ہر ذرّہ تیری راہ کا ھے آفتاب سا
ڈاکٹر بلند اقبال نیازی صاحب بھارت
ڈاکٹر صابرہ شاہین صاحبہ پاکستان
(کسی سبب شرکت فرمانے سے قاصر...)
محبتوں کا یہی مسئلہ نہیں جاتا
ہم اس سے کیسے کہیں،کیا کہا نہیں جاتا
تہذیب ابرار صاحب بجنور انڈیا
میری نگاہِ شوق میں کس کا ظہور تھا
کہ سلسلہ تجلیوں کا مثلِ طور تھا
عقیل احمد رضی صاحب ممبئی انڈیا
رات بھر دِل کا دِیا مدھم رہا
تم نہیں تھے تو عجب عالم رہا
نفسیہ حیا صاحبہ بھارت
جاؤ پردیس تو کچھ رختِ سفر لے جانا
ماں کی آنکھوں سے جو برسیں وہ گہر لے جانا
مشرف حسین محضر صاحب انڈیا
میں جس کے واسطے سب سے لڑا تھا
وہی حزبِ مخالف میں کھڑا تھا
ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی صاحب انڈیا
کس سے گلہ کرے وہ کنارا نہیں ملا
تنکے کا ڈوب تے کو سہارا نہیں ملا
جعفر بڑھانوی صاحب بھارت
تمہاری سوچ کو فرقت میں جب لحاف کیا
دل ِ خراب کو یادوں نے کوہ ِ قاف کیا
خواجہ ثقلین صاحب بھارت
مصطفیٰ دلکش ممبئی مہاراشٹر الہند
(کسی سبب شرکت فرمانے سے قاصر...)
سو سو طرح سے سر کو اٹھانے کے باوجود
وہ شخص میرے قد کے برابر نہ ہو سکا
احمد کاشف صاحب مہاراشٹر ۔انڈیا
ملک سکندر چنیوٹ صاحب پاکستان
(کسی سبب شرکت فرمانے سے قاصر...)
ہمیں کارزارِ حیات میں، نہ ہے آخرت کا خیال کچھ
یوں کدورتوں میں پڑے ہیں ہم ،کہ دلوں سے نورِ صفا گیا ایڈوکیٹ متین طالب ناندورہ بھارت
کیوں وقت کی درویشی سے لے لیں نہ دعائیں؟
گردش سے محبت کی ستارا نہیں جاتا
دلشاد نسیم صاحب لاہور پاکستان
روتے روتے وہ مر گیا اصغر
کوئی بیمار تک نہیں پہنچا
اصغر شمیم صاحب،کولکاتا،انڈیا
زندگى جینا سکھادے اے خدا
درد اس دل کے مٹادے اے خدا
سیما گوہر صاحب انڈیا
دشت و صحرا سا ہے چمن میرا
مضطرب کیوں نہ ہو یہ من میرا
نسیم خانم صبا صاحبہ،معلمہ،کوپل،اندیا
قارئین کرام...، محفل کے اختتامی دور میں مسندِ صدارت پر جلوہ افروز بھارت سے تعلق رکھنے والی مشہور و معروف شاعرہ محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ نے خطبۂ صدارت پیش کِیا جسے من و عن آپ کی باذوق بصیرتوں کے حوالے کررہا ہوں...،
خطبۂ صدارت....، السلام علیکم !
ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری روز اول سے ہی اردو کے فروغ کے لئے کوشاں ہے اور کامیای سے ترقیات کے مرحلے سر کر رہا ہے۔۔آج تک اس ادارے نے ایک سے بڑھ کر ایک منفرد پروگرام انجام دئے ییں ۔۔دیکھنے میں آتا ہے کہ آج کل واٹس ایپ پر گروپس کی بھرمار ہے۔۔اور سب اپنے حساب سے اردو پروگرام منعقد کر بھی رہے ہیں ۔۔لیکن جو بات اس ادارے میں ہے وہ کسی میں بھی نہیں۔اس کے بانی و چئیر مین توصیف ترنل ایک ایسے فعال اور ذہین شخص کا نام ہے جسے اردو کے فروغ کے لئے منفرد کام کرنے کا جنون ہے
یہ عالمی تنقیدی پروگرام نمبر 213 محترم ضیا شادانی مرحوم کے نام سے منسوب ہے ..جو ادارہ بیسٹ اردو پوئیٹری کے تا حیات انتہائ فعال ممبر رہے ..جنہوں نے کئ پروگرام کی نظامت کی اور شاعروں کے کلام پر مثبت تنقید و تبصرہ بھی فرمایا...ایک اچھے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ انتہائ مخلص اور مہربان شخص تھے ..میرا تعلق کیوں کہ مراداباد سے ہے تو اکثر پروگرام میں مجھے ان کی شفقتیں میسر رہی ہیں ..اللہ رحمان و رحیم ہے دعاگو ہوں کہ مرحوم کا آخرت سفر آسان ہو اور اللہ ان کے درجات بلند فرمائے آمین ..
تمام شعرا اکرام نے انتہائی پختگی اور خوب صورتی سے اپنے کلام پیش کئے۔بہترین اور لاجواب نظامت کے لئے جناب صبیحہ صدف صاحبہ قابلِ مبارک باد ہیں ۔تمام شعرائے کرام کے بہترین کلام کے لئے بھی دل کی گہرائیوں سے مبارک باد
۔۔۔۔۔۔اور پروگررام کے بانی بے مثال شخصیت بے حد فعال محترم توصیف ترنل کو اس خوب صورت اور منفرد پروگرام کے لئے جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔۔۔خدا انہیں توفیقات سے نوازے ۔۔۔
مجھ حقیر کو منصبِ صدارت سے نوازے جانے پر بہت بہت شکریہ عنایت۔۔نوازش، نیاز آگیں ....ڈاکٹر مینا نقوی
—————————————————————
الحمدللّہ... پروگرام میں بطورِ ناقد بھارت سے تعلق رکھنے والے بزرگ کہنہ مشق شاعر و نقاد محترم شفاعت فہیم صاحب نے تنقیدی نقطۂ نظر سے ردیفی کلام کو پرکھا اور اپنی قیمتی آراء سرِ محفل پیش کیں...، جسے شعراء کرام نے مثلِ تبرّک ہاتھوں ہاتھ لِیا...
احبابِ ذی وقار...، اِس طرح "ادارۂ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری" کے تحت، بزرگ مایہ ناز شاعر "مرحوم ضیاء شادانی صاحب" کی خدمت میں عقیدت و محبّت کے پھول نچھاور کئے گئے...، ایک بار پھر اللّہ کریم سے دعا کرتا ہوں کہ...، نبئ پاکﷺ کے صدقہ و طفیل مرحوم کے حق میں کی گئیں تمام تر جائز دعاؤں کو شرفِ قبولیت بخشے، مرحوم کی مغفرت فرمائے نیز جنّت الفردوس میں بہتر سے بہتر مقام عطا فرمائے...آمین...ثمّ آمین...
قارئین کرام...، اسی کے ساتھ ادارے کی فہرست میں مزید ایک کامیاب پروگرام درج ہوا... اس کامیاب پروگرام کو پیش کرنے کے لئے "ادارۂ ھٰذا کے منجملہ عہدداران و اراکین مبارکباد کے مستحق ہیں... بالخصوص ادارے کے چیئرمن محترم توصیف ترنل صاحب کی خدمات قابلِ ستائش ہیں...، ساتھ ہی اِس باوقار مجلس میں شریک تمامی محبّانِ ادب کا ادارۂ ھٰذا کی جانب سے شکریہ ادا کرتا ہوں...
✍تحریر از قلم....،
نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی (انڈیا)
0 notes
Text

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری
کی پیشکش
عالمی تنقیدی پروگرام نمبر213
بعنوان :ردیفی مشاعرہ و بیاد ضیا شادانی مرحوم
ردیف : الف
حروف الف (جیسے خدا یا مدعا، دریا) جیسے الفاظ ردیف کے طور پر استعمال کئے جائیں
تعزیتی اجلاس و دعائے مغفرت
احباب، انتہائی رنج کے ساتھ یہ اعلان کرنا پڑ رہا ہے، کہ معروف شاعر، محترمہ ضیا شادانی ، داعئی اجل کو لبیک کہتے ہوئے، اس دار۔۔ فانی سے کوچ کر گئے ہیں
ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی جانب سے ممتاز شاعر جناب ضیا شادانی مرحوم کی یاد میں ایک تعزیتی اجلاس و ردیفی مشاعرہ منعقد کیا جا رہا ہے مایہ ناز شاعر کو خراج تحسین پیش کیا جائے گا.
پروگرام میں شمولیت کے لیے نام لکھواتے جائیں۔
تاریخ : 27-07-2019
وقت شام سات بجے
منجانب انتظامیہ
===========================
پروگرام آرگنائزر
توصیف ترنل اینڈ اسلم بنارسی
گرافک ڈیزائنر
صابر جاذب لیہ پاکستان
===========================
پبلیشرز
وقاص سعید برزبن آسٹریلیا
جان محمد جموں کشمیر بھارت
سمی شاہد پاکستان
کامران ضیا بھارت
سیدہ کوثر منور لندن
محمد شفیع میر بھارت
عندلیب صدیقی آسٹریلیا
ڈاکٹر وسیم راشد بھارت
ملک محمد شہباز پ��کستان
===========================
تنقید نگار
شفاعت فہیم بھارت
افتخار راغب دوحہ قطر
غلام مصطفی اعوان دائم پاکستان
شہزاد نیر لاہور پاکستان
حسن علی امام پاکستان
قیوم راز مارولی جلگاؤں انڈیا
مبصرین
امین اڈیرائی پاکستان
انور کیفی مرادآبادبھارت
ریاض شاہد بحرین
===========================
صدارت
ڈاکٹر مینا نقوی مرادآبادبھارت
مہمانِ خصوصی
صبیحہ صدف بھوپال بھارت
نظامت
ثمینہ ابڑو پاکستان
رپورٹ اردو
نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی انڈیا
رپورٹ ہندی
ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا
===========================
حمد بارئ تعالی
نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی انڈیا
نعت پاک
رضاالحسن رضا پاٸتی کلاں امروہہ یو پی بھارت
===========================
فہرست شعراء
ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا
مشرف حسین محضر انڈیا
مصطفیٰ دلکش ممبئی مہاراشٹر الہند
ایڈوکیٹ متین طالب ناندورہ بھارت
عقیل احمد رضی ممبئی انڈیا
جعفر بڑھانوی بھارت
تہذیب ابرار بجنور انڈیا
احمد کاشف مہاراشٹر انڈیا
اصغر شمیم،کولکاتا،انڈیا
نفسیہ حیا بھارت
دلشاد نسیم لاہور پاکستان
ڈاکٹر بلند اقبال نیازی بھارت
ڈاکٹر صابرہ شاہین پاکستان
0 notes
Text

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری
کی پیشکش
عالمی تنقیدی پروگرام نمبر212
بعنوان : *"فروغِ ادب--طریقہ کار و ترجیحات"*
*شرائطِ پروگرام :
یہ پروگرام نثری ہو گا۔
تحریر مختصر اور جامع ہو۔
*نوٹ : تحریر میں فروغِ ادب کا طریقہ کار، آداب، منشورات، مشمولات، پلیٹ فارمز، اور ممکنہ نتائج پر بات کی جائے۔ اور اس ضمن میں چند بنیادی سوالات کا صریح یا ضمنی جواب مضمون کا اصل مواد شمار ہوگا۔
ہم ادب کیوں تخلیق کرتے ہیں؟
ادب کیسے تخلیق ہوتا ہے؟
بلکہ خود ادب ہوتا کیا ہے؟
ادیب کی ذمہ داری کیا ہے؟
اردو ادب میں برصغیر پاک و ہند میں نمایاں کام کی نوعیت؟
فروغِ ادب میں ادیب کی ترجیحات کیا ہونی چاہ��ئں؟ وغیرہ وغیرہ………
*بالخصوص برقی دنیا میں ادارے کے سبھی پروگرامز کا اردو ادب کے فروغ میں کیا کردار ہے؟؟ کیا ادارہ اپنے مقصد میں کامیاب جا رہا ہے؟*
پروگرام میں شمولیت کے لیے نام لکھواتے جائیں۔
پروگرام تاریخ : 20-07-2019
وقت شام سات بجے
انتظامیہ
تاریخ : 16-07-2019
لامتناہی کارکردگی کا جائزہ
چار سال سے برقی دنیا میں ہفت روزہ پروگرامز کا سلسلہ جاری ہے
دو زمینی پروگرامز کئے
دو شعراء کی کتابیں پبلش کروا چکے ہیں نیز
212 منفرد عالمی تنقیدی پروگرامز اور 16 شمارے عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب کے نام سے برقی دنیا میں پیش کر چلے ہیں
ادارہ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے،جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے..
=========================
انتظامیہ ادارہ
بانی و چئیرمین
توصیف ترنل ہانگ کانگ
وائیس چئیرمین
اسلم بنارسی بھارت
صدر
افتخار راغب دوحہ قطر
نائب صدر
غلام مصطفی اعوان دائم پاکستان
جنرل سیکریٹری
صابر جاذب لیہ پاکستان
سیکریٹری
اشرف علی اشرف سندھ
پبلیشر ز
فانی ایاز گولوی رام بن کشمیر
ڈاکٹر سمی شاہد پاکستان
وقاص سعید
ملک محمد شہباز
جان محمد کشمیر
ممبرانِ خاص
گلِ نسرین ملتان پاکستان
صبیحہ صدف بھوپال بھارت
سراج گلاوٹھوی بھارت
نفیس احمد نفیس ناندوروی بھات
خالد سروحی گکھڑ سٹی گوجرانوالہ پاکستان
ایڈوکیٹ متین طالب ناندورہ بھارت
ثمینہ ابڑو پاکستان
ڈاکٹر ارشاد خان بھارت
شفاعت فہیم بھارت
شہزاد نیر لاہور پاکستان
============================
صدارت
تھذیب ابرار، بجنور، انڈیا
نظامت
صبیحہ صدف بھوپال بھارت
رپورٹ
غلام مصطفی اعوان دائم پاکستان
حمد
نفیس احمد نفیس ناندوروی بھارت
نعت
غلام مصطفی اعوان دائم پاکستان
============================
⛧ ممتاز احمد آرزو
⛧ فانی ایاز احمد گولوی
⛧ شیخ نورالحسن حفیظی
⛧ محمد مزمل رضا جاذب
⛧ حافظ وقار خان
⛧جعفر بڑھانوی بھارت
0 notes
Text
ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری
انتظامیہ
تاریخ : 16-07-2019
لامتناہی کارکردگی کا جائزہ
چار سال سے برقی دنیا میں ہفت روزہ پروگرامز کا سلسلہ جاری ہے
دو زمینی پروگرامز کئے
دو شعراء کی کتابیں پبلش کروا چکے ہیں نیز
212 منفرد عالمی تنقیدی پروگرامز اور 16 شمارے عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب کے نام سے برقی دنیا میں پیش کر چلے ہیں
ادارہ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے،جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے..
=========================
انتظامیہ ادارہ
بانی و چئیرمین
توصیف ترنل ہانگ کانگ
وائیس چئیرمین
اسلم بنارسی بھارت
صدر
افتخار راغب دوحہ قطر
نائب صدر
غلام مصطفی اعوان دائم پاکستان
جنرل سیکریٹری
صابر جاذب لیہ پاکستان
سیکریٹری
اشرف علی اشرف سندھ
پبلیشر ز
فانی ایاز گولوی رام بن کشمیر
ڈاکٹر سمی شاہد پاکستان
وقاص سعید
ملک محمد شہباز
جان محمد کشمیر
ممبرانِ خاص
گلِ نسرین ملتان پاکستان
صبیحہ صدف بھوپال بھارت
سراج گلاوٹھوی بھارت
نفیس احمد نفیس ناندوروی بھات
خالد سروحی گکھڑ سٹی گوجرانوالہ پاکستان
ایڈوکیٹ متین طالب ناندورہ بھارت
ثمینہ ابڑو پاکستان
ڈاکٹر ارشاد خان بھارت
شفاعت فہیم بھارت
شہزاد نیر لاہور پاکستان
0 notes
Text

ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری
عالمی تنقیدی پروگرام نمبر ٢١٠
بتاریخ ٦ جولائی ٢٠١٩ء
شام سات بجے پاکستانی اور ساڑھے ساتھ بجے ہندوستانی وقت کے مطابق
ایک شام آپ کے نام
کہکشانِ ادب کے چھ حسین ستارے
١: گل نسرین شاعر و ناظم مشاعرہ
٢: مسعود حساس صدر مشاعرہ
٣: روبینہ میر راجوری کشمیر
۴: غلام مصطفےٰ دائم اعوان
۵: افتخار راغب بھارت
٦: تہذیب ابرار
ہر محترم شاعر اپنی تین تین غزلیں اس شام میں پیش فرمائیں گے اور جو غزلیات آپ نے پیش فرمانی ہیں وہ کل مورخہ ٢جولائی تک احمد منیب کے ان باکس میں بھیج دیں تاکہ ان پر گفتگو اور نقدونظر کے زاویہء نگاہ سے تیاری کروائی جا سکے
خاکسار
احمدمنیب
نوٹ : اس پروگرام کی مفصل رپورٹ خاکسار مرتب کرے گا
0 notes
Text

ادارہ ،عالمی بیسٹ اردو پوئٹری
کی جانب سے پیش کرتے ہیں
عالمی تنقیدی پروگرام نمبر 209
بعنوان : *فروغِ ادب*
ادارہ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے،جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعرا، ادبا و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے....
اردو زبان کا تحفظ و فروغ - کیسے اور کس طرح؟
اُردو کے فروغ میں مشاہیر ادب کا کردار
اردو زبان - سیاست اور فروغ کی کوششیں
بچوں کے ادب کا فروغ۔۔۔ کیوں؟۔۔۔ اور۔۔۔ کیسے؟
اردو ادب کی ترویج میں سوشل میڈیا کا کردار
فروغ ادب میں جدید شعرا کا کردار
3سادہ طریقوں سے اردو کے فروغ میں حصہ لیں
مورخہ 29 جون 2019 بروز ہفتہ
پاکستانی وقت شام ۔07:00بجے
ہندوستانی وقت شام ۔07:30بجے
*منجانب انتظامیہ*
بانی و سرپرست ادارہ
توصیف ترنل ہانگ کانگ
قائم مقام چیئر مین
احمد منیب لاہور پاکستان
وائس چیئرمین
شفاعت فہیم بھارت
صدر
مسعود حساس کویت
نائب صدر
شہزا نیّر پاکستان
جنرل سیکریٹری
صابر جاذب لیہ پاکستان
سیکریٹری
غلام مصطفی اعوان دائم پاکستان
چیف آرگنائزر
احمر جان رحیم یار خان پاکستان
====================
صدر مشاعرہ
ساجدہ انور کراچی پاکستان
مہمان خصوصی
علی شیدا کشمیر
مہمان اعزازی
محمد شاکر عزم ٹھاکر دوآرہ مراد آباد یوپی
نظامت
گل نسرین پاکستان
ناقدین
مسعود حساس کویت
ذوالفقار نقوی جموں بھارت
غلام مصطفی اعوان دائم پاکستان
رپورٹ
ڈاکٹر ارشاد خان بھارت
====================
حمد
رضاء الحسن رضا پاٸتی کلاں امروہہ یو پی بھارت
نعت
نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی انڈیا
====================
فہرست
☜جعفر بڑھانوی بھارت
☜روبینہ میر کشمیر بھارت
☜اصغر شمیم،کولکاتا،انڈیا
☜مصطفیٰ دلکش ممبئی مہاراشٹر الہند
☜شاہ رخ ساحل تلسی پوری لکھنؤ الہند
☜عامر حسنی ملائیشیا
☜ نورالحسن حفیظی
☜ماورا سید پاکستان
☜عتیق دانش (لاہور پاکستان )
☜گل نسرین ملتان پاکستان
☜تھذیب ابرار، بجنور، انڈیا
☜محمدزبیر، گجرات، پاکستان
☜اشرف علی اشرف سندھ پاکستان
0 notes
Text

ادارہ ،عالمی بیسٹ اردو پوئٹری
کی جانب سے پیش کرتے ہیں
عالمی تنقیدی پروگرام نمبر 208
بعنوان : سیاست
ادارہ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے،جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے....
جگر مراد آبادی
ان کا جو کام ہے وہ اہلِ سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
افسانہ
واپسی کا سفر
’’ یہ ہے وہاں کی بے ایمانیوں ، بد عنوانیوں اور سیاست بازیوں کی فہرست۔ یہ دیکھو سب لکھ دیا ہے میں نے‘‘۔
مجھے غصہ آ گیا۔
عذرا نقوی
مورخہ 22 جون 2019 بروز ہفتہ
پاکستانی وقت شام ۔07:00بجے
ہندوستانی وقت شام ۔07:30بجے
منجانب انتظامیہ
====================
پروگرام آرگنائزر
توصیف ترنل ہانگ کانگ
گرافک ڈئیزانر
صابر جازب لیہ پاکستان
====================
صدارت
مشرف حسین محضر علی گڑھ انڈیا
مہمانِ خصوصی
شیخ نورالحسن حفیظی سرینگر جموں وکشمیر
مہمانِ اعزازی
رضاالحسن رضا امروہہ یو پی بھارت
ناظمین
ثمینہ ابڑو پاکستان
گلِ نسرین ملتان پاکستان
رپورٹرز
خالد سروحی گکھڑ سٹی گوجرانوالہ پاکستان
احمدمنیب لاہور پاکستان
ڈاکٹر سمی شاہد آزاد کشمیر
مقالے
ڈاکٹر ارشاد خان بھارت
امیرالدین امیر بیدر بھارت
ناقدینِ علمِ عروض
مسعود حساس کویت
ذوالفقار نقوی جموں بھارت
غلام مصطفی اعوان دائم پاکستان
====================
حمد
احمدمنیب لاہور پاکستان
گلفام صادق بھارت
نعت
محمد شاكر عزم ٹھاکردوآرہ مرادآباد یوپی انڈیا
نفیس احمد نفیس ناندوروی بھارت
====================
فہرست
ساجدہ انور کراچی پاکستان
روبینہ میرجموں کشمیر بھارت
مصطفیٰ دلکش ممبئی مہاراشٹر الہند
اصغر شمیم،کولکاتا،انڈیا
عامر حسنی ملائیشیا
ماورا سید کراچی پاکستان
گلِ نسرین ملتان پاکستان
جعفر بڑھانوی بھارت
خالد سروحی گکھڑ سٹی گوجرانوالہ پاکستان
غزالہ انجم بورے والاپاکستان
اکرم جمیل ٹھاکردوارہ مراد آباد یو پی انڈیا
ایڈوکیٹ متین طالب، ناندورہ، بھارت
شاہ رخ ساحل تلسی پوری لکھنؤ الہند
علی شیدا جموں کشمیر
تھذیب ابرار، بجنور، انڈیا
0 notes
Text

ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری
لامتناہی کارکردگی کا جائزہ
میر،غالب وسودا کے بعد ،بہت سے سودائی اردو کی ترقی و فروغ کے لیے اٹھے ۔۔سرسید تحریک نے مولانا حالی کی صورت نیچرل شاعر دیا تو خود سرسید نے انشا پردازی کی بنا ڈالی ۔۔انجمن حمایت الاسلام لاہور نے اقبال جیسے گوہرِ نایاب سے اردو کا دامن بھر دیا ۔۔دارالمصنفین نے سید سلیمان ندوی و شبلی جیسے تروتازہ گلاب پیش کیے۔۔شبلی کی عرق ریزی سے لکھی گئی تحقیق ۔۔الفاروق و الغزالی اردو ادب میں گراں قدر اضافہ ۔۔ترقی پسند تحریک گو کہ اشتراکیت کا آرگن رہا ۔۔نعرہ بازی کے سوا اور کچھ نہیں ۔۔پر یہ بات لائق ستائش کہ اس نے اردو کے دامن کو گلہائے رنگارنگ سے بھر دیا ۔۔۔فیض،مخدوم ،اختر الایمان ،سردار جعفری ،مجاز وغیرہم ۔۔مجاز سے متعلق کہا جاتا کہ ،،اردو میں ایک کیٹس پیدا ہوا تھا جسے ترقی پسند بھیڑیے اٹھا لے گئے ،،حلقہ ارباب ذوق نے بھی اردو زبان کی ترویج وترقی میں نمایاں رول ادا کیا ۔۔اور ڈاکٹر سجاد، باقر رضوی، انتظار حسین سے نامور قلمکار دیے۔
ان تمام تنظیموں نے زمینی سطح پر کام کیا ۔۔پرنٹ میڈیا سے ۔۔ریڈیو ۔۔پھر ٹیلیویژن جیسے ذرائع ابلاغ کو اپنایا ۔۔زمانے نے کروٹ بدلی۔۔بیسویں صدی کی سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی یافتہ شکل اکیسویں صدی میں کمپیوٹر کی شکل معرض وجود میں آئی ۔۔ٹیلی فون سے موبائل پھر ٹچ اسکرین نے انقلاب برپا کر دیا ۔۔۔یہ برقی دنیا میں اہم قدم تھا ۔۔اسے اردو ادب کے فروغ کے لیے برتا جانے لگا ۔۔واٹس اپپ و فیس بک پر مختلف گروپس متحرک ہوگئے ۔۔مگر ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری نے وہ نمایاں کام انجام دیے کہ برقی دنیا مدتوں اس کا ثانی پیش نہیں کرسکتی ۔
توصیف ترنل۔۔ایک نام ہی نہیں انجمن ۔۔۔جس نے برصغیر سے دور ہانگ کانگ میں رہ کر اس ادارے کی بنیاد ڈالی ۔۔۔بانی و چیئرمین ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری ۔۔انتھک محنت جس کا اصول ،نامساعد حالات میں بھی ثابت قدم ۔۔۔اپنے ادارے کے اراکین کے ہمقدم ۔۔یقیں محکم ،عمل پیہم کی جیتی جاگتی تصویر ۔۔بس ایک ہی دھن اردو زبان و ادب کا فروغ ۔
یوں تو برقی دنیا کے بہت سے گروپس اردو ادب کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں مگر ان میں وہ بات کہاں !!۔۔جو ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری میں ہے ۔اس ادارے کی انفرادیت روز اول سے یہی رہی ہے کہ اس کی تمام تر پروگرام برائے تنقید ہوئے ہیں ۔۔!!جس نے منفرد 207 پروگراموں کا ہمالہ کھڑا کر دیا ہے ۔اسی پر بس نہیں بلکہ ہر پروگرام اچھوتے موضوع کو سمیٹے ہوئے ۔لاثانی ولافانی۔۔گلہائے رنگارنگ سے سجے،جن کی مہک آج بھی ان کے ذہنوں میں تازہ ہے جو ابتدا سے اس ادارے سے جڑے ہیں ۔ان کی کامیابی کے پس پشت سالار کاروں ،ادارے کے بانی و چیئرمین عزت مآب توصیف ترنل صاحب کی انتھک محنت ،ناممکن کو ممکن کردکھانے کی صلاحیت اور ان کے زرخیز ذہن کی اپچ شامل رہی ہے ۔۔ٹیم ورک نے شراب دوآتشہ کا کام کیا ہے ۔
یہ توصیف ترنل صاحب کی خوش قسمتی رہی ہے کہ ہمیشہ انہیں ایسے نئے اراکین ملے جنھوں نے ان ممبران کا خلا پورا کیا جو اپنی ذاتی مصروفیت کی بنا پر یا کسی اور وجہ سے ادارے سے علحیدگی اختیار کی ۔مگر یہ چمن یوں ہی آباد و سرسبز وشاداب رہا گرچہ کئی بلبلیں اپنی اپنی بولیاں بول کر اڑ گئیں !۔۔غنچے ٹوٹتے گئے اور نئے شگوفے پھوٹتے رہے ۔۔کیاری کیاری ،روش روش،پتہ پتہ ،بوٹا بوٹا موسم بہار کا سماں پیش کرتے رہے ۔
عصر حاضر کے بہت سے معروف قلمکار اس ادارے کی خون جگر سے آبیاری کرتے رہے ۔۔اسلم بنارسی صاحب ،افتخار راغب ،لالی صاحبہ ،علیم طاہر ،مختار تلہری۔۔ایک طویل فہرست ہے ۔کہاں تک نام گنوائیں جائیں ۔!! ادارے کے فعال رکن معروف شاعر علی مزمل مرحوم کی یادوں کے انمٹ نقوش ذہنوں پر ثبت ہے ۔
ادارے نے اردو ادب کی ہر صنف سخن میں برائے تنقید پروگرام پیش کیے۔۔یہ بھی ایک ریکارڈ ہے ۔۔کیا نثر ،کیا نظم ۔۔مزید برآں موضوعات کی بوقلمونی!!۔۔عصر حاضر کے سلگتے موضوعات ،،امن یا جنگ ،، ،،کرپشن ،،۔۔۔،،مہنگائی ،،۔۔ذرائع ابلاغ سے متعلق ،،صحافت کا گرتا معیار ،،جیسے برنگ ٹاپکس ۔ ۔۔کسی کی مخالفت کی پروا کیے بغیر پیش کئے ۔۔۔وہ بھی کامیابی و کامرانی کے بلندیوں کو چھوتے ، مقبولیت کے جھنڈے گاڑتے ، سنگ میل قائم کرتے جانب منزل رواں دواں ،یہ گنگناتے ہوئے ،
آنکھوں نے میری میل کا پتھر نہیں دیکھا
کس کس پروگرام کا ذکر کیا جائے !۔۔کس کس کی انفرادیت کے گن گنوائے جائیں !!--کس کس کی کامیابی کے گیت گائے جائیں !!!-یہاں ،،موسم بہار ،، کی رنگینی بھی ہے تو ،، عید ملن،، کی دلکشی بھی تو ،،حمد ونعت،، کی روشنی بھی ۔۔۔مائیکرو فکشن کا اختصار جس نے سمندر کو کوزے میں بند کیا تو افسانوی ادب نے معاشرتی و سماجی پہلوؤں کو اجاگر کیا ۔۔،،خود نمائی،، نے چہروں کے نقاب الٹ دیے۔۔تو وہیں ،،طنزومزاح ،،کی چاشنی نے لبوں پر تبسّم بکھیر دیا ۔۔اردو کی مقبول اصناف میں لکھاریوں نے قلم کے جوہر دکھائے ۔۔سہل ممتنع ،،۔۔ذو ردیفین،،۔۔صنعت مبالغہ ،،۔غرض ہر صنف سخن پر پروگرام مرتب کیے گئے ۔جنہوں نے جہاں داد وتحسین کو بٹورا وہیں تنقید کے کڑے مراحل سے گزرے ۔۔ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کا یہی وتیرہ رہا ہے کہ وہ ،،نام نہیں کام دیکھتا ہے ،،۔۔تخلیق دیکھتا ہے تخلیق کار نہیں ۔۔۔۔تنقید کی کسوٹی کندن کی سی آب وتاب عطا کرتی ہے ۔ٹیم دی بیسٹ میں نامور تنقید نگار ۔۔شفاعت فہیم ،مسعود حساس ،غلام مصطفیٰ داعم،ذوالفقار نقوی ،ڈاکٹر عدیل ارشد خان موجود ہیں جو بے لاگ وبےباک تنقید کر تنقید کا حق ادا کرتے ہیں ۔
ادارے کی فعالیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ پروگرام کے خاتمہ کے ساتھ بعض اوقات فی الفور اس کی رپورٹ تیار کی جاتی ہے ۔۔جو مختلف ویب سائٹس میں پبلش ہوتی ہے ۔۔ادارے کی ذاتی ویب سائٹ بھی موجود ہے ۔ادارے کی لاٹیو رپورٹ فیس بک پر ٹیلی کاسٹ کی جاتی ہے ۔۔جس میں ادارے کے روحِ رواں توصیف ترنل نمایاں رول ادا کرتے ہیں ۔
پروگرام کی رپورٹس احمد منیب ،نفیس احمد ،ڈاکٹر ارشاد خان وغیرہم تیار کرتے ہیں جو ایک سند کا درجہ رکھتی ہے ۔ادارے کی انفرادیت کا یہ عالم کہ اول پروگرام سے لےکر 207 ویں پروگرام تک ۔۔تمام ریکارڈ محفوظ ہے ۔۔گوگل پر کسی بھی پروگرام کو سرچ کرکے دیکھا جاسکتا ہے ۔۔ادارے کی انتظامیہ میں شامل اراکین کو جو عہدے تفویض کیے گئے ہیں وہ اسے بحس و خوبی ادا کرتے ہیں ۔۔ادارے کے پروگرام کے لیے ہفتہ کی شام مختص ہے ۔۔آرگنائزر پروگرام مرتب کر کرتے ہیں جو دقت طلب عمل ہے ۔۔نظامت کے لیے لاثانی ٹیم موجود ہے جس میں برقی دنیا کے شہرۂ آفاق ناظم ۔۔گل نسرین ،صبیحہ صدف،سیما گوہر ،اسلم بنارسی ،احمر جان،علیم طاہر نے بے مثال نظامت کر اپنے فن کا لوہا منوایا ہے ۔۔جن کی برجستگی و برمحل اشعار پیوستگی۔۔نیز لب و لہجے کی وارفتگی محفل میں چار چاند لگادیتی ہے ۔
برقی دنیا میں ماشاءاللہ ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری ۔۔اب کسی تعارف کو محتاج نہیں رہا ۔۔بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ،،اب نام ہی کافی ہے ،،ادارے کے ڈیزائنر صابر جاذب ، پر جاذب بینر تیار کر ادارے کو وقار بلند کیے ہوئے ہیں ۔۔سیکرٹری احمد منیب کی انتھک محنت نے ادارے کو اعلیٰ مقام عطا کیا ہے ۔
ادارے نے جہاں منفرد پروگرام پیش کئے ہیں ان کا تابناک پہلو یہ بھی ہے کہ تخلیق کاروں سے ۔۔کچھ نیا ، انوکھا ، سب سے الگ ،تعمیری ادب تخلیق کروایا ۔۔یہی دھن ادارے کے بانی کی سدا سے رہی ہے ، جس کی صدا پر ادارے کے قلمکاروں نے سدا لبیک کہا ۔۔۔ترقی پسندوں نے جدید ادب تخلیق تو کیا ۔۔جدیدیت کے رجحان میں گل وبلبل، جام ومینا سے اجتناب تو کیا ۔۔مگر ایک مخصوص فکر کے آلو کار بن گئے ۔۔جس کا سب سے تاریک پہلو ،،مذہب بے زاری ،،ابھر کر سامنے آیا ۔۔۔۔ادب کے نام پر پروپیگنڈہ ادب تو کہیں پراگندگی ابھر آئی ۔۔منٹو ،عصمت و مابعد واجدہ تبسّم نے ۔علی الترتیب کھول دو ،لحاف و اترن کو جنم دیا ۔۔سماج کی کریہہ شکل کو ۔۔ من وعن پیش کیا ۔ ۔۔جبکہ ارادہ نے تعمیری ادب کے ساتھ ساتھ مذہب کو بھی جوڑ رکھا تو سیاست کو تو آداب معاشرت کو ،۔۔کہ ۔۔
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
اور
۔۔۔۔مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
کے مصداق پروگرام کی ابتدا ہی حمد و نعت سے کی جاتی ہے ۔
ایک اور نمایاں خصوصیت ،جو ریسرچ اسکالرس کے لیے کسی نعت غیر متوقع سے کم نہیں کہ عصر حاضر کے نامور قلمکار ایک پرچم تلے صف بستہ ہیں جن کے تخلیقی مواد و کسی مخصوص موضوع کی تلاش میں بھٹکنے کی ضرورت نہیں ۔گوگل پر سرچ کرکے متعلقہ مواد سے استفادہ کیا جا سکتا ہے ۔برقی دنیا میں ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری ہر اول دستہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔۔ادارے کے بانی وچیئرمن نے چیلنج کر انعام کا اعلان کیا ہے کہ ادارہ سے بہتر کارکردگی برقی دنیا میں اردو کے فروغ کے لیے کسی نے پیش کی ہو تو بتائیں ۔!!
ادارے نے سب سے پہلے ایوارڈ کا سلسلہ جاری کیا ہے ۔۔ہر بہترین تخلیق پر اب تک بے شمار ایوارڈ دیے جاچکے ہیں ۔۔یہ ایوارڈز کلاسیکی ادباء وشعرا سے موسوم ہیں ۔۔مولانا الطاف حیسن حالی ،جگر مرادآبادی ،مشتاق احمد یوسفی وغیرہم سے منسوب ایک لامتناہی سلسلہ ۔۔۔ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری ایک ادارہ نہیں ۔۔۔دبستان ہے جس میں گلہائے رنگارنگ اپنی دلکشی سے قارئین کو مسحور کیے ہوئے ہیں اور ان کی مہک دلوں کو سرشار و بے خود کیے ہوئے ۔کیف و سرور ،سوزوگداز ،قدیم و جدید کا امتزاج ،آئیں نو۔و طرزِ کہن،سے سجا سجا یہ چمن ،اس کی ہر تخلیق میں بانکپن ،آہو و غزال سے بھرا پڑا مرغزار ختن ،جھلملاتے ستاروں کی انجمن ،کہکشاں سے آراستہ گگن ،۔۔۔یہی ہے ۔۔یہی ہے ،جس سے تن اردو میں جان پڑگئی ۔۔مہتاب کی وہ کرن۔۔ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری ۔
ڈاکٹر ارشاد خان بھارت
1 note
·
View note